ظاہر داری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دکھاوے کی باتیں، ظاہر میں نیکی اور باطن میں برائی۔ "اقبال نے . نفاق، ظاہر داری، تصنع اور تکلف سے بالاتر ہونے کی ترغیب . دلائی۔"      ( ١٩٨٥ء، تفہیمِ اقبال، ١٢٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'ظاہر' کے بعد فارسی مصدر'داشتن' سے صیغہ امر 'دار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'ظاہر داری' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٣٠ء کو "تقویۃ الایمان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دکھاوے کی باتیں، ظاہر میں نیکی اور باطن میں برائی۔ "اقبال نے . نفاق، ظاہر داری، تصنع اور تکلف سے بالاتر ہونے کی ترغیب . دلائی۔"      ( ١٩٨٥ء، تفہیمِ اقبال، ١٢٤ )

جنس: مؤنث